5 اشعار

کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض

Kab sune zanjeer mujh majrooh deewane ki arz

کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض

«کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرض

گرمی اہل بزم سے مت کر کہ میں ہوتا ہوں داغشمع کی خدمت میں ہے اتنی ہی پروانے کی عرض

شیشہ مجھ دل سا نہ پاوے اور تری آنکھوں سا جاملے اگر ساقی ہزاروں سال میخانے کی عرض

دل کو ویراں مت کرو یہ ہے جنوں کا پاۓ تختاے پری زادوں کبھو سنئے بھی دیوانے کی عرض

فصل جاتی ہے یقیںؔ اور باغباں سے ایک یارکوئی کرتا نیں ہمارے باغ میں جانے کی عرض

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں