5 اشعار

کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں

Kam nahin hum boojhte Ka'ba se maikhane ke taeen

کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں

«کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیںسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیں

ہے یہ دل ناصح بتاں کا جلوہ گاہ اس سے نہ بولتوڑ مت سنگ جفا سے اس پری خانے کے تئیں

ہجر میں جینے سے بہتر ہے ہلاک روز وصلیہ طرح کیا خوب راس آئی ہے پروانے کے تئیں

لائیے مے کرتی ہے تعمیر دل ہائے خرابتا ابد رکھیو خدا معمور میخانے کے تئیں

اٹھ گیا کہتے ہیں دیوانہ یقینؔ دنیا سے ہائےان نے کیا آباد کر رکھا تھا ویرانے کے تئیں

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں