کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
کلام: انعام اللہ خاں یقین
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے
گئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سےزمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے
گئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سےزمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے
پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھوم
تیری آنکھوں نے نشے میں اس طرح مارا ہے جوشڈالتے ہیں جس طرح بد مست مے خانہ میں دھوم