5 اشعار

شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے

Shab-e-hijraan ki wahshat ko tu aye bedaad kya jaane

شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے

«شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانے

جدا ہم سے ہوا تھا ایک دن جو اپنے یاروں میںخبر پھر کچھ نہ پائی کیا ہوا واقع خدا جانے

نہ رکھ اے ابر تو سر پر ہمارے بار منت کاوہ بادل اور ہیں جو آگ کو دل کی بجھا جانے

نہ رکھ اے دل تو امید وفا ان بے وفاؤں سےخدا سے ہے وہ بیگانہ جو بت کو آشنا جانے

جنوں نے اس کے گل سے بلبلوں تک شور ڈالا ہےیقیںؔ سا ہو کوئی تب اس طرح دھومیں مچا جانے

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں