مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
کلام: انعام اللہ خاں یقین
مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں
فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازلہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں
فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازلہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں
ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئی
نظر آتا نہیں ثابت گریباں ایک غنچہ کاچمن پر یہ ستم کرتا ہے اے باد صبا کوئی