5 اشعار

عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں

Umar aakhir hai junoon kar loon baharaan phir kahan

عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں

«عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں

چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کردے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں

یار جب پہنے جواہر کر دے اے دل جی نثارجل چک اے پروانے یہ رنگیں چراغاں پھر کہاں

اس طرح صیاد کب آزاد چھوڑے گا تمہیںبلبلو دھومیں مچا لو یہ گلستاں پھر کہاں

ہے بہشتوں میں یقیںؔ سب کچھ ولیکن درد نئیںبھر کے دل رو لیجئے یہ چشم گریاں پھر کہاں

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں