5 اشعار

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

Yeh wo aansoo hain jin se zohra aatish-naak ho jaawe

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

«یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے

نہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوںیہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے

گنہ گاروں کو ہے امید اس اشک ندامت سےکہ دامن شاید اس آب رواں سے پاک ہو جاوے

عجب کیا ہے تری خشکی کی شامت سے جو تو زاہدنہال تاک بٹھلاوے تو وہ مسواک ہو جاوے

دعا مستوں کی کہتے ہیں یقیںؔ تاثیر رکھتی ہےالٰہی سبزہ جتنا ہے جہاں میں تاک ہو جاوے

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں