7 اشعار

بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں

Bazahir toot kar bikhre nahin hain

بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں

«بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیںمگر ہم اب وہ پہلے سے نہیں ہیں

وہی بے چین رکھتے ہیں زیادہابھی تک حرف جو لکھے نہیں ہیں

ہے مٹی سے جڑے رہنا ضروریخلا میں پھول تو کھلتے نہیں ہیں

لڑائی لڑ رہے ہیں زندگی سےتھکے تو ہیں مگر ہارے نہیں ہیں

یہ دریا خشک ہے ایسا نہیں بسکسی کے سامنے روتے نہیں ہیں

سمجھ میں آ گئی جس روز دنیااسی دن سے تو دنیا کے نہیں ہیں

کہ بے ترتیب بھی رہنے دیا کریہ گھر ہیں آئنہ خانے نہیں ہیں

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں