پرانے محلے کا سنسان آنگن
کلام: عشرت آفریں
پرانے محلے کا سنسان آنگنمجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن
یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیںسمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
پرانے محلے کا سنسان آنگنمجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن
یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیںسمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیںمگر ہم اب وہ پہلے سے نہیں ہیں
وہی بے چین رکھتے ہیں زیادہابھی تک حرف جو لکھے نہیں ہیں
آگ پانی میں فروزاں دیکھوتم بھی اس گھر کا چراغاں دیکھو
وحشت خواب گریزاں دیکھولذت دید کا عنواں دیکھو