7 اشعار

بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ

Bhook ki karwahat se sard kasile hont

بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ

«بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹخون اگلتے سوکھے چٹخے پیلے ہونٹ

ٹوٹی چوڑی ٹھنڈی لڑکی باغی عمرسبز بدن پتھرائی آنکھیں نیلے ہونٹ

سونا آنگن تنہا عورت لمبی عمرخالی آنکھیں بھیگا آنچل گیلے ہونٹ

کچے کچے لفظوں کا یہ نیلا زہرچھو جائے تو مورکھ تو بھی چھیلے ہونٹ

زہر ہی مانگیں امرت رس کو منہ نہ لگائیںباغی ضدی وحشی اور ہٹیلے ہونٹ

ایسی بنجر باتیں ایسے کڑوے بولایسے سندر کومل سرخ رسیلے ہونٹ

اتنا بولو گی تو کیا سوچیں گے لوگرسم یہاں کی یہ ہے لڑکی سی لے ہونٹ

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں