وحشت سی وحشت ہوتی ہے
کلام: عشرت آفریں
وحشت سی وحشت ہوتی ہےزندہ ہوں حیرت ہوتی ہے
جل بجھنے والوں سے پوچھوغم کی کیا حدت ہوتی ہے
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
وحشت سی وحشت ہوتی ہےزندہ ہوں حیرت ہوتی ہے
جل بجھنے والوں سے پوچھوغم کی کیا حدت ہوتی ہے
بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹخون اگلتے سوکھے چٹخے پیلے ہونٹ
ٹوٹی چوڑی ٹھنڈی لڑکی باغی عمرسبز بدن پتھرائی آنکھیں نیلے ہونٹ