19 اشعار

وحشت سی وحشت ہوتی ہے

Wahshat si wahshat hoti hai

وحشت سی وحشت ہوتی ہے

«وحشت سی وحشت ہوتی ہے» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وحشت سی وحشت ہوتی ہےزندہ ہوں حیرت ہوتی ہے

جل بجھنے والوں سے پوچھوغم کی کیا حدت ہوتی ہے

رہن نہ رکھ دینا بینائیاس کی بھی مدت ہوتی ہے

سارے قرض چکا دینے کیکبھی کبھی عجلت ہوتی ہے

دل اور جان کے سودے جو ہیںان میں کب حجت ہوتی ہے

خود سے جھوٹ کہاں تک بولیںتھوڑی سی خفت ہوتی ہے

اپنے آپ سے ملنے میں بھیاب کتنی دقت ہوتی ہے

خود سے باتیں کرنے کی بھیاب کس کو فرصت ہوتی ہے

کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میںاپنے ہاں برکت ہوتی ہے

سونا سی مٹی کے گھر میںکب ہم سے محنت ہوتی ہے

دھان ہمارے چڑیا کھائیںچڑیوں کو عادت ہوتی ہوتی ہے

بچوں سے کیا شکوہ کرنامٹی میں الفت ہوتی ہے

سبز کواڑوں کی جھریوں میںجگنو یا حیرت ہوتی ہے

ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میںکیا اجلی رنگت ہوتی ہے

پھٹی پرانی سی چنری میںکیا بھولی صورت ہوتی ہے

چاول کی پیلی روٹی میںکیا سوندھی لذت ہوتی ہے

رلی کے ایک اک ٹانکے میںپوروں کی چاہت ہوتی ہے

جاڑے اوڑھ کے سو جانے میںکب کوئی زحمت ہوتی ہے

شام کو تیرا ہنس کر ملنادن بھر کی اجرت ہوتی ہے

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں