7 اشعار

تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے

Tum se bhi baat cheet ho dil se bhi guftugu rahe

تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے

«تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہےخواب و خبر کا سلسلہ یونہی کبھو کبھو رہے

درد بھی ہاتھ تھام لے زخم بھی بولنے لگیںیعنی نہال شاخ غم ایسے ہی با نمو رہے

عشق میں احتیاط ہی گویا ہے پاس وضع عشقچاک ہوں صد ہزار اور دامن دل رفو رہے

تو جو نہیں تو میں نہیں میں جو نہیں تو تو کہاںدونوں طرح تھی بات ایک میں رہوں یا کہ تو رہے

اور متاع جان و دل کچھ بھی نہ مجھ کو چاہئےسینے میں اک چراغ سا آنکھ میں اک لہو رہے

ایک چراغ ہنس پڑا طاق میں احتیاط سےاور ہوا سہم گئی پھول کی آبرو رہے

ایک لکیر رو پڑی دونوں ہتھیلیوں کے بیچرنگ حنا چھپا گیا ہاتھ لہو لہو رہے

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں