میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی
کلام: عشرت آفریں
میں اپنے عذاب لکھ رہی تھیزخموں کا حساب لکھ رہی تھی
پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھیکانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
میں اپنے عذاب لکھ رہی تھیزخموں کا حساب لکھ رہی تھی
پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھیکانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی
میٹھی نرم سجیلی دھوپساحل کی چمکیلی دھوپ
کب تک مایوں بیٹھے گیساون کی شرمیلی دھوپ