6 اشعار

نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں

Numoo ke irfaan se be khabar hoon

نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں

«نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوںکہ لالۂ دشت بے شجر ہوں

یہ زرد پھولوں کے کنج دیکھویہاں بھی آؤ کہ میں ادھر ہوں

وہ پھول ہے شاخ پر رہے گامیں اس کی خوشبو ہوں در بدر ہوں

وہ زندگی کی سزا کا لمحہاس ایک لمحے کا میں ثمر ہوں

مجھے اٹھانے کا حق ہے کس کوکہ اپنی تربت پہ نوحہ گر ہوں

وہ کج کلاہوں کی بستیاں ہیںوہاں نہ لے چل میں ننگے سر ہوں

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں