7 اشعار

پرانے محلے کا سنسان آنگن

Purane muhalle ka sunsan angan

پرانے محلے کا سنسان آنگن

«پرانے محلے کا سنسان آنگن» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

پرانے محلے کا سنسان آنگنمجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن

یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیںسمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن

وہ دیوار سے جھانکتی شوخ آنکھیںوہ پہرے پہ بوڑھا نگہبان آنگن

کوئی جست میں پار کرتا ہے چوکھٹکسی کے لئے اک بیابان آنگن

کسی کے لئے پایۂ تخت ہے یہکسی کے لئے ایک زندان آنگن

سنا رفتہ رفتہ کھنڈر ہو رہے ہیںوہ آباد گلیاں وہ گنجان آنگن

کدھر جائیں تہذیب کی ہجرتوں میںیہ بوڑھے درخت اور یہ ویران آنگن

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں