تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے
کلام: عشرت آفریں
تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہےخواب و خبر کا سلسلہ یونہی کبھو کبھو رہے
درد بھی ہاتھ تھام لے زخم بھی بولنے لگیںیعنی نہال شاخ غم ایسے ہی با نمو رہے
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہےخواب و خبر کا سلسلہ یونہی کبھو کبھو رہے
درد بھی ہاتھ تھام لے زخم بھی بولنے لگیںیعنی نہال شاخ غم ایسے ہی با نمو رہے