38 اشعار

تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

Tumhein likhna na aata tha

تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

«تمہیں لکھنا نہ آتا تھا» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

سنا ہے تم منوں مٹی تلے آرام کرتی ہوتم اور آرام نا ممکن

سنا ہے موت سے بھی آخری دم تک لڑائی کیمجھے معلوم ہے تم کتنی ضدی تھیں

قسم ان کھردرے ہاتھوں کیمیں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوں

نہایت بے ایمانی سےتمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوں

کہانی کاڑھتی ہوںاور سب سے جھوٹ کہتی ہوں

کہ سارے حرف میرے ہیںسنا ہے جس گھڑی دنیا میں میں آئی

تمہیں نے شہد بھی مجھ کو چٹایاریشمی انگلی سے کاجل بھی لگایا تھا

وہ پہلا شہد کا قطرہمرے شعروں میں رس بن کر مہکتا ہے

تو مجھ پر داد اور تحسین کی برسات ہوتی ہےوہ کاجل ریشمی انگلی سے جو تم نے لگایا تھا

مری آنکھوں میں ایسا نور لایاکہ جو نیکی بدی میں خط فاصل کھینچ دیتا ہے

ترائی کے بہت چھوٹے سے قصبے کےکسی خاموش آنگن میں

مجھے تم دودھ چاولچاند کی میٹھی کٹوری میں کھلاتی تھیں

تو رانی کیتکی والی کہانی بھی سناتی تھیںکبھی تم اپنے پہلو میں لٹا کر

آسماں کے نت نئے اسرار سمجھاتیںوہ دیکھو

کہکشاں کہتے ہیں جس کو یہ حقیقت میںنبی جی کی سواری کے قدم کی دھول ہے ساری

کبھی تم دل نشیں آواز میں لوری سناتی تھیںمگر میں بھی تمہاری ہی طرح کی ایک ضدی تھی

مجھے کب نیند آتی تھیتمہاری ریشمی انگلی پکڑ کر میں

انوکھی کہکشاؤں کے سفر پر چل نکلتی تھیانوکھی کہکشائیں جو گلی کوچوں میں بکھری تھیں

وہ اک نا بینا بڑھیاجس کے ٹوٹے جھونپڑے میں

شب کی تاریکی میں تم جا کرنوالہ اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھیں

محلے میں کوئی بچہ جو آدھی رات کو روتاتو تم بے چین ہی رہتی تھیں جب تک ہو نہ آتی تھیں

تمہیں بچوں سے اور بچوں کو تم سے عشق تھا گویاکہا جاتا ہے تم دشمن بنانے میں بھی ماہر تھیں

حریص ایسیکہ کم قیمت کوئی ملبوس نظروں میں نہ لاتی تھیں

غنی ایسیکہ اک لقمہ نہ مرضی کے خلاف اپنے اٹھاتی تھیں

رعونت اور درویشیتمہاری ذات کے اک منطقے پر آن ملتے تھے

شکایت رنج بیمارییہ وہ الفاظ تھے جن کو

لغت سے اپنی خارج کر دیا تھا جانے کب تم نےسنا یہ ہے تمہیں قرآن بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا تھا

مگر میں نے تو یہ دیکھاگلی کے کتنے ہی آوارہ کتے دم دبا کر بیٹھ جاتے تھے

تمہاری ایک صم اور بکمن کی تلاوت سےتمہارے ہاتھ کے میٹھے ملیدے میں

جو درگاہوں کی خوشبو تھیمیں لکھنا چاہتی ہوں تو

سمٹ کر جذب ہو جاتی ہے کاغذ میںتمہارے پوپلے ہونٹوں کا نازک خم

اک ایسا حرف ابجد تھاجسے جتنا میں پڑھتی ہوں

نئے اسرار کھلتے ہیںروپہلی جلد کی افشاں بکھر جاتی ہے کاغذ پر

کبھی قرطاس پر تم جھریوں میں جھلملاتی ہوہمیشہ کی طرح سے میٹھے میٹھے مسکراتی ہو

تو اپنے کھردرے ہاتھوں کو میں حیرت سے تکتی ہوںسنا یہ ہے تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

تمہارے ہاتھ کی کپڑے کی گڑیااور گلابی رنگ کی مٹی کی چڑیا

لفظ بن کر جب بھی کاغذ پر چہکتی ہیںمیں چالاکی سے ہنستی ہوں

چلو اچھا ہے لوگوں کو یہی معلوم ہے اب تکتمہیں لکھنا نہ آتا تھا

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں