6 اشعار

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں

Aankhon mein haya aa jaati hai honton pe tabassum laate hain

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں

«آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیںوہ مجھ پہ ستم جب کرتے ہیں تصویر کرم بن جاتے ہیں

اب آپ عنایت کرنے کی تکلیف ہی کیوں فرماتے ہیںدن یوں بھی گزرنے ہی ٹھہرے دن یوں بھی گزر ہی جاتے ہیں

اللہ رے خس و خاشاک سے یہ ہنس ہنس کے چٹانوں کا کہناوہ طوفاں کو کیا سمجھیں گے جو طوفاں میں بہہ جاتے ہیں

اک سمت مسلسل امیدیں اک سمت مسلسل محرومیکب تک یہ اٹھے بار ہستی شانے ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں

اب ایسی کرم کی باتوں سے دبتی ہیں کہیں دل کی چوٹیںتم جتنا مٹاتے جاتے ہو یہ نقش ابھرتے آتے ہیں

اس دور پریشانی میں کبھی وہ وقت بھی آتا ہے عالیؔکچھ دل بھی دھوکے کھاتا ہے کچھ وہ بھی کرم فرماتے ہیں

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں