14 اشعار

جو بولے مارا جائے

Jo bole mara jaye

جو بولے مارا جائے

«جو بولے مارا جائے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے خیال نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

وقت نے پوچھاکیا تم مجھ کو جانتے ہو

ہاںکیا تم مجھ کو مانتے ہو

ناںکیا مطلب ہے

کیا مطلب تھاوقت بھی چپ ہے

جانے وہ کب کیا بولے گاآج کی کتنی باتوں کو بھی

کیسے کیسے بدلنے والےبنتے بنتے غم سے خوشی سے اور حیرت سے

اپنی آنکھیں ملنے والےمیزانوں میں ڈنڈی مار کے یا سچائی سے تولے گا

اور پھر میں بھی چپ نہ رہوں گالیکن

جو اس وقت مجھے بھی کہنا لازم ہووہ کہہ نہ سکوں گا

شاید وہ سب سہہ نہ سکوں گاہاں بھئی لے اس لمحے میں تجھ کو مانتا بھی ہوں

اب یہ چھوڑ کہ جانتا بھی ہوںجو تو چاہے آج بتا دے

ورنہ مجھ کو ابھی بھلا دےکون اب کیا کیا کس کو سکھائے

جو بولے وہ مارا جائےاے میراؔ جی آپ کو تو سب بھول گئے ہیں

آپ یہاں اور مجھ جیسے معتوب زماں کو آخر اک دم کیوں یاد آئے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں