7 اشعار

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

Ab yeh kaifiyat-e-dil hai ke chhupaye na bane

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

«اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنےاور جو وہ پوچھیں کہ کیا ہے تو بتائے نہ بنے

تم کو آزردگیٔ دل کا مزا کیا معلومکاش تم سے بھی کوئی کام بنائے نہ بنے

تو نے کیوں ان کو غم زیست دیا ہے یا ربجن سے اک رنج محبت بھی اٹھائے نہ بنے

ہائے کیا پاس محبت ہے کہ تنہائی میں بھیاشک آنکھوں میں رہے اور بہائے نہ بنے

ہم نشیں پوچھ نہ اس بزم کی رسمیں کہ جہاںمجھ سے وحشی کو بھی بن ہوش میں آئے نہ بنے

وقت کی چارہ گری یوں تو مسلم ہے مگرزخم بھی وہ ہے کہ تا عمر دبائے نہ بنے

یہ بھی اک رسم تماشا ہے وہاں اے عالیؔدیکھتے رہیے مگر آنکھ اٹھائے نہ بنے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں