5 اشعار

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

Agli gali mein rehta hai aur milne tak nahin aata hai

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

«اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہےکہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے

کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گیکچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے

کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھاپھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چپ ہو کر رہ جاتا ہے

خود اس سے کہا گھر آنے کو اور اس کے بنا مر جانے کواور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے

اے بچو اے ہنسنے والو تاریخ محبت پڑھ ڈالودل والے کے دل پر قید نہیں ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں