11 اشعار

تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں

Tere khayal ke deewar-o-dar banate hain

تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں

«تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیںہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں

بجائے یوم ملامت رکھا ہے جشن مرامرے بھی دوست مجھے کس قدر بناتے ہیں

بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کےکہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں

بس اب حکایت مزدوریٔ وفا نہ بناوہ گھر انہیں نہیں ملتے جو گھر بناتے ہیں

ترا بھی نام چھپا وجہ مرگ عاشق میںیہ دیکھ بے خبرے یوں خبر بناتے ہیں

وہ کیا خدا کی پرستش کریں گے میری طرحجو ایک بت بھی بہت سوچ کر بناتے ہیں

کہا یہ کس نے کہ ہے قصر عشق رہن شباببنانے والے اسے عمر بھر بناتے ہیں

تو آئے تو تری کاری گری کی لاج رہےہم آج دشت میں رہ کر بھی گھر بناتے ہیں

ملی نہ فرصت آرائش بیاباں بھیکہ ہم یہاں بھی ترے بام و در بناتے ہیں

عدو ہواؤ کراچی کے لوگ ہارے نہیںجو گھر گراؤ وہ بار دگر بناتے ہیں

ابو ظبی میں ہمیشہ نئی غزل عالؔییہ لوگ ہی تو تجھے معتبر بناتے ہیں

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں