6 اشعار

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

Haqeeqaton ko afsana bana ke bhool gaya

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

«حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیامیں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا

ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھکہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہوکہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا

گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدتوہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا

اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیےدعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا

دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیںکوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں