8 اشعار

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

Yeh jo meri lay aur lafzon ke rangeen taane baane hain

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

«یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیںسننے والوں غور نہ کرنا سارے راگ پرانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ کھل ہی جائیں گےکتنے خالی بھید ہمارے جو کب سے افسانے ہیں

سننے والوں غور نہ کرنا ورنہ پتہ چل جائے گاہم نے جتنے باغ سجائے وہ اب تک ویرانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ صاف سمجھ لو گےہم نے جتنے نام لیے تھے آج بھی سب انجانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ خفا ہو جاؤ گےجن کو ہم نے دوست کہا ہے ہم ان سے بیگانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہمیں ٹھکرا دو گےہم اندر سے سخت کمینے باہر سے دیوانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ہم بے سر ہو جائیں گےجب تک تم سر دھنتے رہو گے سارے گیت سہانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہم خود کہہ دیں گےہم اب شعر نہیں کہہ سکتے یہ سب شعر بہانے ہیں

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں