7 اشعار

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے

Tumhein mujh mein kya nazar aa gaya jo mera yeh roop bana gaye

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے

«تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئےوہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ مرے وجود میں آ گئے

نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکےیہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے

نہ کر آج ہم سے یہ گفتگو مجھے کیوں ہوئی تری جستجوارے ہم بھی ایک خیال تھے سو ترے بھی ذہن میں آ گئے

جو سنا کہ گھر ترے جائیں گے ترے صحن و باغ سجائیں گےمرے اشک اڑ کے ہوا کے ساتھ انہی بادلوں میں سما گئے

دل شب میں صبح کی دھڑکنیں ابھی ابتدائے غزل میں تھیںکہ وہ آئے اور تمام شعر مری ہی دھن میں سنا گئے

جو نہ آپ اس پہ ہوئے عیاں یہ رکھے گا ہم کو بھی سر گراںکئی بار لے کے شکایتیں مرے دوست ارض و سما گئے

کئی محفلوں میں تو یوں ہوا کہ جب آئے عالؔیٔ خوش اداجو نہ کھل سکے تو چھپے رہے جو نہ رو سکے تو رلا گئے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں