9 اشعار

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

Aaye kya kya yaad nazar jab padti in dalaanoN par

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

«آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر

آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہوچلتے چلتے رک جاتا ہوں ساری کی دوکانوں پر

برکھا کی تو بات ہی چھوڑو چنچل ہے پروائی بھیجانے کس کا سبز دوپٹا پھینک گئی ہے دھانوں پر

شہر کے تپتے فٹ پاتھوں پر گاؤں کے موسم ساتھ چلیںبوڑھے برگد ہاتھ سا رکھ دیں میرے جلتے شانوں پر

سستے داموں لے تو آتے لیکن دل تھا بھر آیاجانے کس کا نام کھدا تھا پیتل کے گل دانوں پر

اس کا کیا من بھید بتاؤں اس کا کیا انداز کہوںبات بھی میری سننا چاہے ہاتھ بھی رکھے کانوں پر

اور بھی سینہ کسنے لگتا اور کمر بل کھا جاتیجب بھی اس کے پاؤں پھسلنے لگتے تھے ڈھلوانوں پر

شعر تو ان پر لکھے لیکن اوروں سے منسوب کئےان کو کیا کیا غصہ آیا نظموں کے عنوانوں پر

یارو اپنے عشق کے قصے یوں بھی کم مشہور نہیںکل تو شاید ناول لکھے جائیں ان رومانوں پر

— جان نثار اختر