7 اشعار

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

Ufuq agarche pighalta dikhai padta hai

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

«افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہےمجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہے

ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیںکبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے

چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیںہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے

جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائےوہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے

نہ کوئی خواب نہ کوئی خلش نہ کوئی خماریہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے

لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہمفلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے

چمکتی ریت پہ یہ غسل آفتاب ترابدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے

— جان نثار اختر