8 اشعار

دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے

Dil ko maal-e-ishq se begana kijiye

دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے

«دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیےپروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے

ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہےکس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے

وہ بات جو ابھی ابھی میں نے نہیں سنیوہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجیے

مخلص ہیں اور وہ بھی مجھ ایسے حقیر سےاپنے ہی ساتھ آپ یہ دھوکہ نہ کیجیے

کیا سچ میں آپ جی نہیں سکتے مرے بغیرتو پھر کوئی جواز مہیا نہ کیجیے

اتنی بھی میری درگزری مستقل نہیںکتنی دفعہ کہا ہے کہ ایسا نہ کیجیے

ہاں شکر تو ضرور بجا لائیے حضورلیکن ہمارے ضبط پہ تکیہ نہ کیجیے

اچھا ہے انفراد بھی اپنی جگہ مگرجوادؔ کوئی کام تو الٹا نہ کیجیے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں