7 اشعار

داد تو بعد میں کمائیں گے

Daad to baad mein kamaenge

داد تو بعد میں کمائیں گے

«داد تو بعد میں کمائیں گے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

داد تو بعد میں کمائیں گےپہلے ہم سوچنا سکھائیں گے

میں کہیں جا نہیں رہا لیکنآپ کیا میرے ساتھ آئیں گے

کوئی کھڑکی کھلے گی رات گئےکئی اپنی مراد پائیں گے

کھل کے رونے پہ اختیار نہیںہم کوئی جشن کیا منائیں گے

ہنسیں گے تیری بد حواسی پرلوگ رستہ نہیں بتائیں گے

تم اٹھاؤ گے کوئی رنج مرادوست احباب حظ اٹھائیں گے

ہمیں اپنی تلاش میں مت بھیجکھڑی فصلیں اجاڑ آئیں گے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں