6 اشعار

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے

Darguzar jitna kiya hai wahi kaafi hai mujhe

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے

«درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھےاب تجھے قتل بھی کر دوں تو معافی ہے مجھے

مسئلہ ایسے کوئی حل تو نہ ہوگا شایدشعر کہنا ہی مرے غم کی تلافی ہے مجھے

دفعتاً اک نئے احساس نے چونکا سا دیامیں تو سمجھا تھا کہ ہر سانس اضافی ہے مجھے

میں نہ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیں گیجانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے

اس سے اندازہ لگاؤ کہ میں کس حال میں ہوںغیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے

وہ کہیں سامنے آ جائے تو کیا ہو جوادؔیاد ہی اس کی اگر سینہ شگافی ہے مجھے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں