کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
کلام: جواد شیخ
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسوتو کیوں نہ سوکھ ہی جائیں پڑے پڑے آنسو
جو یاد آئیں تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہےکسی عزیز کی پلکوں میں وہ جڑے آنسو
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسوتو کیوں نہ سوکھ ہی جائیں پڑے پڑے آنسو
جو یاد آئیں تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہےکسی عزیز کی پلکوں میں وہ جڑے آنسو
ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتےاک تو معیار بھی تھا دوسرا سستے پڑتے
عشق کو سہل تو ہم بھی نہیں کہتے لیکنہو ہی جاتا اگر اس کام کے پیچھے پڑتے
غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگاخود اپنی فکر میں گھلنے لگا تو کیا ہوگا
یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیےگزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا