9 اشعار

ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا

Hazaar sehra the raste mein yaar kya karta

ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا

«ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے آمنہ نعیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتاجو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا

کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایاوہ دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا

چلو یہ مانا کہ اظہار بھی ضروری ہےسو ایک بار کیا، بار بار کیا کرتا

اسی لیے تو در آئنہ بھی وا نہ کیاجو سو رہے ہیں انہیں ہوشیار کیا کرتا

وہ اپنے خواب کی تفسیر خود نہ کر پایاجہان بھر پہ اسے آشکار کیا کرتا

اگر وہ کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتایہ سوچ مت کہ اکیلا شرار کیا کرتا

سوائے یہ کہ وہ اپنے بھی زخم تازہ کرےمرے غموں پہ مرا غم گسار کیا کرتا

بس ایک پھول کی خاطر بہار مانگی تھیرتوں سے ورنہ میں قول و قرار کیا کرتا

مرا لہو ہی کہانی کا رنگ تھا جوادؔکہانی کار اسے رنگ دار کیا کرتا

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں