تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
کلام: کیف بھوپالی
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سےحسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے
انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سےحسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے
انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نے
تیری گلی میں آ نکلے تھے دوش ہمارا اتنا تھاپتھر مارے تہمت باندھی عیب لگایا لوگوں نے