14 اشعار

اندیشے

Andeshe

اندیشے

«اندیشے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے

وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہےرنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا

وہ کہاں اور کہاں کاہش غم، سوزش جاںاس کی رنگین نظر اور نقوش حرماں

اس کا احساس لطیف اور شکست ارماںطعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہوگا

جھک گئی ہوگی جواں سال امنگوں کی جبیںمٹ گئی ہوگی للک، ڈوب گیا ہوگا یقیں

چھا گیا ہوگا دھواں، گھوم گئی ہوگی زمیںاپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہوگا

دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گےاشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں گے

بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گےایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا

اس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہوگیمٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہوگی

میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگیہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا

بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گےغم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گے

نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گےسر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا

زلف ضد کر کے کسی نے جو ہٹائی ہوگیروٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگی

برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگیرنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں