اندیشے
کلام: کیفی اعظمی
روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے
وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہےرنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے
وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہےرنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا
تم اتنا جو مسکرا رہے ہوکیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو
آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پرکیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو