11 اشعار

یہ دنیا ، یہ محفل

Yeh duniya, yeh mehfil

یہ دنیا ، یہ محفل

«یہ دنیا ، یہ محفل» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

یہ دنیا ، یہ محفلمیرے کام کی نہیں

کس کو سُناؤں حال دلِ بیقرار کابُجھتا ہوا چراغ ہوں اپنے مزار کا

اے کاش بھول جاؤں مگربھولتا نہیںکس دُھوم سے اُٹھا تھا جنازہ بہار کا

یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیںاپنا پتہ ملے نہ خبر یار کی ملے

دشمن کو بھی نہ ایسی سزا پیار کی ملےاُن کو خدا ملے، ھے خدا کی جنھیں تلاش

مجھ کو بس اِک جھلک مِرے دلدار کی ملےیہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں

صحرا میں آکے بھی مجھ کو ٹھکانا نہ ملاغم کو بُھلانے کا کوئی بہانہ نہ ملا

دل ترسے جس میں پیار کو، کیا سمجھوں اس سنسکار کواِک جیتی بازی ہار کے میں ڈھونڈوں بچھڑے یار کو

یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیںدور نگاہوں سے آنسو بہاتا ھے کوئی

کیسے نہ جاؤں میں مجھ کو بلاتا ھے کوئییا ٹوٹے دل کو جوڑ دو، یا سارے بندھن توڑ دو

اے پربت رستہ دے مجھے اے کانٹو دامن چھوڑ دو __!!!یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں، میرے کام کی نہیں

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں