6 اشعار

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

Khaar o Khas to uthein raasta to chalen

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

«خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے

چاند سورج بزرگوں کے نقش قدمخیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے

حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہےمسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے

اس کو مذہب کہو یا سیاست کہوخودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے

اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گاآپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے

بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیںمیں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں