میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا
نئی زمین نیا آسماں بھی مل جائےنئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا
نئی زمین نیا آسماں بھی مل جائےنئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا
میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو
ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامنکہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے
چاند سورج بزرگوں کے نقش قدمخیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے
حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاشوقت کو پھر ہے کروڑوں میں بہتر کی تلاش
زندگی کو پھر ہے اک جانباز رہبر کی تلاشپھر جوانی کھونے کو ہے وہ نشان حریت
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھاجسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا