6 اشعار

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں

Layi phir ek laghzish-e-mastana tere shehar mein

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں

«لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میںپھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں

آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاںآج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں

جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹناکفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں

شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پرہر جگہ ہے دفن اک افسانہ تیرے شہر میں

کچھ کنیزیں جو حریم ناز میں ہیں باریابمانگتی ہیں جان و دل نذرانہ تیرے شہر میں

ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے راترینگتا ہے ہر طرف ویرانہ تیرے شہر میں

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں