11 اشعار

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا

Tum jo mil gaye ho to ye lagta hai ke jahan mil gaya

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا

«تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے مہیمن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیاایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیابیٹھو نہ دور ہم سے، دیکھو خفا نہ ہو

قسمت سے مل گئے ہو، مل کے جدا نہ ہومیری کیا خطا ہے ہوتا ہے یہ بھی

کہ زمیں سے بھی کبھی آسماں مل گیاکہ جہاں مل گیا

تم کیا جانو تم کیا ہو، ایک سریلا نغمہ ہوبھیگی راتوں میں مستی، تپتے دن میں سایہ ہو

اب جو آ گئے ہو، جانے نہ دوں گاکہ مجھے ایک حسیں مہرباں مل گیا

کہ جہاں مل گیاتم بھی تھے کھوئے کھوئے، میں بھی بجھا بجھا

تھا اجنبی زمانہ، اپنا کوئی نہ تھادل کو جو مل گیا ہے تیرا سہارا

اک نئی زندگی کا نشان مل گیاکہ جہاں مل گیا

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیاایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا

تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں