تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا
کلام: کیفی اعظمی
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیاایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیابیٹھو نہ دور ہم سے، دیکھو خفا نہ ہو
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیاایک بھٹکے ہوئے راہی کو کارواں مل گیا
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیابیٹھو نہ دور ہم سے، دیکھو خفا نہ ہو