یہ دنیا ، یہ محفل
کلام: کیفی اعظمی
یہ دنیا ، یہ محفلمیرے کام کی نہیں
کس کو سُناؤں حال دلِ بیقرار کابُجھتا ہوا چراغ ہوں اپنے مزار کا
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
یہ دنیا ، یہ محفلمیرے کام کی نہیں
کس کو سُناؤں حال دلِ بیقرار کابُجھتا ہوا چراغ ہوں اپنے مزار کا
پتھر کے خدا وہاں بھی پائےہم چاند سے آج لوٹ آئے
دیواریں تو ہر طرف کھڑی ہیںکیا ہو گئے مہربان سائے