5 اشعار

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

Dhaṛakta jaata hai dil muskurane walon ka

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا

«دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کااٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا

یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہزمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا

یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑےپیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا

نہ آئیں اہل خرد وادئ جنوں کی طرفیہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا

لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سےبڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں