6 اشعار

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے

Haqeeqaton ka jalal denge sadaqaton ka jamal denge

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے

«حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گےتجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

تپش پتنگوں کو بخش دیں گے لہو چراغوں میں ڈھال دیں گےہم ان کی محفل میں رہ گئے ہیں تو ان کی محفل سنبھال دیں گے

نہ بندۂ عقل و ہوش دیں گے نہ اہل فکر و خیال دیں گےتمہاری زلفوں کو جو درازی تمہارے آشفتہ حال دیں گے

یہ عقل والے اسی طرح سے ہمیں فریب کمال دیں گےجنوں کے دامن سے پھول چن کر خرد کے دامن میں ڈال دیں گے

ہماری آشفتگی سلامت سلجھ ہی جائے گی زلف دوراںجو پیچ و خم رہ گیا ہے باقی وہ پیچ و خم بھی نکال دیں گے

جناب شیخ اپنی فکر کیجے کہ اب یہ فرمان برہمن ہےبتوں کو سجدہ نہیں کرو گے تو بت کدے سے نکال دیں گے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں