6 اشعار

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

Talkhiyan is mein bahut kuchh hain maza kuchh bhi nahin

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

«تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے شکیل احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیںزندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاںاس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں

ہم گدایان محبت کا یہی سب کچھ ہےگرچہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں

یہ نیا طرز کرم ہے ترا اے فصل بہارلے لیا پاس میں جو کچھ تھا دیا کچھ بھی نہیں

ہم کو معلوم نہ تھا پہلے یہ آئین جہاںاس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں

وہی آہیں وہی آنسو کے دو قطرے عاجزؔکیا تری شاعری میں ان کے سوا کچھ بھی نہیں

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں