7 اشعار

بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے

Bayan jab Kaleemؔ apni halat kare hai

بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے

«بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےغزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے

بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاسنا ہے کسی سے محبت کرے ہے

کبھی شاعری اس کو کرنی نہ آتیاسی بے وفا کی بدولت کرے ہے

چھری پر چھری کھائے جائے ہے کب سےاور اب تک جئے ہے کرامت کرے ہے

کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سےلگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے

یہ فتنے جو ہر اک طرف اٹھ رہے ہیںوہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے

قبا ایک دن چاک اس کی بھی ہوگیجنوں کب کسی کی رعایت کرے ہے

— کلیم عاجز