9 اشعار

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا

Andaz woh hi samjhe mere dil ki aah ka

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا

«انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کازخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا

زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکسروشن ہوا ہے نام تو اس رو سیاہ کا

ہر چند فسق میں تو ہزاروں ہیں لذتیںلیکن عجب مزہ ہے فقط جی کی چاہ کا

لے کر ازل سے تابہ ابد ایک آن ہےگر درمیاں حساب نہ ہو سال و ماہ کا

رحمت قدم نہ رنجہ کرے گر تری ادھریا رب ! ہے کون پھر تو ہمارے گناہ کا

دل اس مژہ سے رکھیو نہ تو چشمِ راستیاے بے خبر ! برا ہے یہ فرقہ سپاہ کا

شاہ و گدا سے اپنے تئیں کام کچھ نہیںنے تاج کی ہوس نہ ارادہ کُلاہ کا

سو بار دیکھیاں ہیں تری بے وفائیاںتِس پر بھی نت غرور ہے دل میں نباہ کا

اے دردؔ ! چھوڑتا ہی نہیں مجھ کو جذبِ عشقکچھ کہرُبا سے چل نہ سکے برگِ کاہ کا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں