7 اشعار

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

Ham tujh se kis hawas ki falak justujoo karein

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

«ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں

مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاںہم آئینے کے سامنے جب آ کے ہو کریں

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو!دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہمپر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں

ہر چند آئینہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبولمنھ پھیر لے وہ جس کے مجھے روبرو کریں

نہ گُل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبارکس بات پر چمن ہوسِ رنگ و بو کریں

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہراے درد! آ کے بیعتِ دستِ سبو کریں

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں