6 اشعار

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا

Agar yun hi yeh dil satata rahega

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا

«اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا

میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا

گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوںمیں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا

جفا سے غرض امتحان وفا ہےتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا

قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیروخبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا

خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا توکہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں